واہگہ کی تقریب میں کیا توقع رکھیں
لاہور کے قریب بھارت پاکستان سرحد پر روزانہ پرچم اتارنے کی مشق بڑی تعداد میں لوگوں کو کھینچتی ہے۔ یہاں جانیے کہ تقریب کیسے ہوتی ہے اور کیا انتظام کرنا چاہیے۔
تصویر: Aa Dil / Pexelsواہگہ بارڈر کراسنگ لاہور سے تقریباً 30 کلومیٹر مشرق میں گرینڈ ٹرنک روڈ پر واقع ہے۔ ہر شام پاکستان اور بھارت کے محافظ دروازوں پر مشترکہ طور پر پرچم اتارنے کی تقریب ادا کرتے ہیں۔ دونوں طرف سٹینڈز میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ تقریب دیکھنے کے لیے کوئی داخلہ فیس نہیں، تاہم بعض دیکھنے کے علاقوں کے لیے فیس لی جاسکتی ہے۔ یہ تقریب تقریباً 45 منٹ جاری رہتی ہے۔
خود تقریب
تقریب کا آغاز رسمی لباس میں محافظوں کی پریڈ سے ہوتا ہے۔ وہ صف بستہ ہو کر مارچ کرتے ہیں، اونچی کِک مارتے ہیں اور پرچموں کو سلامی دیتے ہیں۔ یہ مشق بہت منظم ہے اور روزانہ دہرائی جاتی ہے۔ سورج غروب ہوتے ہی دونوں ملکوں کے پرچم بیک وقت اتارے جاتے ہیں۔ اس کے بعد دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تقریب کے اختتام تک بیٹھے رہیں۔
ماحول بہت جاندار ہوتا ہے۔ پاکستانی طرف کے تماشائی پرچم لہراتے اور نعرے لگاتے ہیں۔ سٹینڈز صنف کے لحاظ سے الگ ہوتے ہیں، ایک حصے میں خاندان اور خواتین اور دوسرے میں مرد ہوتے ہیں۔ یہ تقریب فوجی نظم و ضبط اور قومی فخر کا مظاہرہ ہے۔ یہ کوئی سیاسی تقریب نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
بہترین منظر سٹینڈز کی اگلی قطاروں سے ملتا ہے۔ جگہ پکی کرنے کے لیے جلدی پہنچیں۔ تقریب روزانہ ہوتی ہے، لیکن اوقات موسم کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ گرمیوں میں یہ تقریباً شام 5 بجے شروع ہوتی ہے اور سردیوں میں تقریباً 4 بجے۔ ہمیشہ مقامی طور پر موجودہ وقت کی تصدیق کریں، کیونکہ یہ بدل سکتا ہے۔
وہاں پہنچنا اور واپسی
سرحد تک لاہور سے سڑک کے ذریعے پہنچا جاتا ہے۔ سفر میں ٹریفک کے مطابق تقریباً 45 منٹ سے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ بہت سے سیاح ٹیکسی لیتے ہیں یا کسی ٹور میں شامل ہوتے ہیں۔ لاہور سے واہگہ تک پبلک بسیں بھی چلتی ہیں، لیکن ان میں رش ہوسکتا ہے۔ دوپہر کے بعد سڑک پر رش ہوتا ہے، اس لیے اضافی وقت رکھیں۔
سیکیورٹی سخت ہے۔ چیک پوسٹوں اور بیگ کی تلاشی کی توقع رکھیں۔ بڑے بیگ یا ممنوعہ اشیاء ساتھ نہ لائیں۔ مقررہ علاقوں میں فوٹوگرافی کی اجازت ہے، لیکن سیکیورٹی اہلکاروں یا تنصیبات کی تصویریں لینے سے گریز کریں۔ یہ علاقہ فوجی زون ہے، اس لیے اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
تقریب کے بعد ہجوم کے منتشر ہونے کے باعث لاہور واپسی سست ہوسکتی ہے۔ بعض سیاح لاہور میں رات گزارنا اور اگلے دن سرحد جانا پسند کرتے ہیں۔ سرحد پر خود کوئی ہوٹل نہیں۔ قریب ترین رہائش لاہور میں ہے، جہاں مختلف قسم کے اختیارات مل جائیں گے۔
جے جے وہایک محب وطن نعرہ جو اکثر تقریب میں لگایا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے 'زندہ باد'۔
قریب کیا دیکھیں
لاہور خود بہت سی دلچسپ جگہوں کا حامل ہے۔ اندرونِ شہر میں بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ اور انارکلی و کشمیری بازاروں کی رونق شامل ہے۔ قلعہ اور مسجد یونیسکو کے عالمی ورثے کے مقامات ہیں۔ پرانے شہر کی سیر کے لیے پورا دن رکھیں۔
شالimar باغات، جو ایک اور یونیسکو مقام ہیں، شہر کے مشرق میں واقع ہیں۔ یہ مغل دور میں تعمیر کیے گئے اور سیر کے لیے پرسکون جگہ ہیں۔ دی مال پر لاہور میوزیم میں ایسا مجموعہ ہے جو خطے کی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔ دی مال پر نوآبادیاتی دور کی عمارتیں اور پنجاب اسمبلی بھی ہیں۔
کھانے کے معاملے میں لاہور اپنے گرل شدہ گوشت اور بھرپور سالنوں کے لیے مشہور ہے۔ پرانے شہر میں مقامی خاص پکوان آزمائیں، جہاں چھوٹے کھانے کی دکانیں نہاری اور حلیم جیسی چیزیں پیش کرتی ہیں۔ گوالمنڈی کا علاقہ اپنی فوڈ اسٹریٹ کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی پیشکشیں بھرپور ہیں اور شام کے وقت ان کا مزہ سب سے زیادہ ہے۔
کب جائیں اور کیا پہنیں
تقریب ہر موسم میں ہوتی ہے۔ گرمیاں گرم ہوتی ہیں، درجہ حرارت اکثر 40°C سے اوپر رہتا ہے۔ بہار اور خزاں زیادہ آرام دہ ہیں۔ سردیاں ٹھنڈی ہوتی ہیں، شام کے درجہ حرارت میں کمی آتی ہے۔ سردیوں میں جیکٹ ساتھ لائیں۔ بارش تاخیر یا تقریب منسوخی کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے موسم دیکھ لیں۔
سادہ لباس پہنیں۔ مرد اور خواتین دونوں کندھے اور ٹانگیں ڈھانپیں۔ خواتین کو ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں زیادہ آرام محسوس ہوگا۔ سٹینڈز کھلے میدان میں ہیں، اس لیے گرمیوں میں ٹوپی اور سن اسکرین مفید ہیں۔ پانی ساتھ رکھیں، کیونکہ گرمی اور رش ہوسکتا ہے۔
یہ تقریب ملکی سیاحوں میں مقبول ہے۔ اختتام ہفتہ اور عام تعطیلات میں سب سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ اگر آپ پرسکون تجربہ چاہتے ہیں تو کسی ہفتے کے دن جائیں۔ یہ تقریب خاندان کے لیے موزوں ہے، لیکن چھوٹے بچوں کو ہجوم بوجھل لگ سکتا ہے۔


عملی نکات
عام سٹینڈز کے لیے کوئی داخلہ فیس نہیں، لیکن وی آئی پی نشستوں کے لیے فیس لی جاسکتی ہے۔ شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، کیونکہ چیک پوسٹوں پر اس کی طلب ہوسکتی ہے۔ تقریب وہیل چیئر کے لیے قابل رسائی ہے، لیکن زمین ناہموار ہے۔ مدد کے لیے معاون موجود ہوتے ہیں۔
سرحد کے قریب موبائل فون سگنل کمزور ہوسکتے ہیں۔ بہتر ہے کہ اپنی سواری پہلے سے طے کرلیں۔ اگر آپ کسی ٹور پر ہیں تو منتظم تمام انتظامات سنبھالے گا۔ خود سفر کرنے والوں کو تقریب ختم ہونے سے پہلے واپسی کی سواری کی تصدیق کرنی چاہیے۔
واہگہ کی تقریب ایک منفرد موقع ہے جو فوجی روایت کو تہوار کے ماحول سے ملاتا ہے۔ یہ سرحد کے روزمرہ معمول کی جھلک پیش کرتی ہے۔ تھوڑی سی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ لاہور کے دورے کا یادگار حصہ بن سکتی ہے۔
لاہور میں کہاں ٹھہریں
- لاہورقریب ترین شہر جہاں گیسٹ ہاؤس سے لے کر ہوٹلوں تک ہر قسم کی رہائش دستیاب ہے۔
- واہگہسرحدی گاؤں میں خود کوئی ہوٹل نہیں؛ زیادہ تر سیاح لاہور میں ٹھہرتے ہیں۔
- گوالمنڈیلاہور کا ایک محلہ جو اپنی فوڈ اسٹریٹ کے لیے مشہور ہے، سرحدی سڑک سے تھوڑی دور۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
واہگہ کی تقریب کب شروع ہوتی ہے؟
تقریب روزانہ غروب آفتاب کے وقت ہوتی ہے۔ گرمیوں میں یہ عموماً شام 5 بجے اور سردیوں میں تقریباً 4 بجے شروع ہوتی ہے۔ اوقات بدل سکتے ہیں، اس لیے اپنے دورے کے دن مقامی طور پر تصدیق کریں۔
کیا واہگہ کی تقریب کے لیے داخلہ فیس ہے؟
عام سٹینڈز میں داخلہ مفت ہے۔ وی آئی پی نشستوں کے لیے فیس لی جاسکتی ہے۔ شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، کیونکہ سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر اس کی طلب ہوسکتی ہے۔
میں لاہور سے واہگہ کیسے پہنچوں؟
سرحد لاہور سے تقریباً 30 کلومیٹر مشرق میں ہے۔ ٹیکسی اور ٹور دستیاب ہیں۔ پبلک بسیں بھی چلتی ہیں، لیکن ان میں رش ہوسکتا ہے۔ سیکیورٹی چیکوں کے لیے اضافی وقت رکھیں۔
لاہور میں قیام تلاش کریں
تازہ قیمتیں اور دستیابی IMPT ایپ میں نئی ٹیب میں کھلتی ہیں۔


